مرکزی خیال: ایک معصوم بچے کے حادثاتی انتقال کے بعد والدین کے دلوں میں پیدا ہونے والے شدید نفسیاتی صدمے، اندرونی تنہائی، اور غیر معلن دکھ کی عکاسی کرنا ہے۔ کہانی یہ دکھاتی ہے کہ جب انسان اپنے دکھ کو باہم بانٹنے کے بجائے "احتیاط" اور "خاموشی" کا پردہ اوڑھ لیتا ہے، تو وہ تعلق ختم ہو جاتا ہے اور انسان اپنے ہی بنائے ہوئے خوف اور خیالی دنیا میں تنہا رہ جاتا ہے۔
میز کے اوپر سفید ستھرا دسترخوان تنا ہوا تھا۔ تین پلیٹیں، تین گلاس، چمچے، کانٹے—سب ایک دوسرے سے یکساں فاصلے پر رکھے ہوئے تھے، جیسے کسی معمے کے پرزے۔ میں نے گوشت کا آخری ٹکڑا کانٹے سے چبایا، اس کی رطوبت حلق سے اترتے ہوئے محسوس کی، اور پھر روٹی کے ایک ننھے سے ٹکڑے سے پلیٹ میں بچی ہوئی چٹنی صاف کرنے لگا۔ پوری محنت اور یکسوئی سے، جیسے یہ دنیا کا اہم ترین کام ہو۔ میری بیوی، ثنا، میرے بالکل سامنے بیٹھی تھی۔ وہ اپنی پلیٹ میں موجود سلاد کے ٹکڑوں کو بے رغبتی سے الٹ رہی تھی۔ ہماری درمیانی کرسی خالی تھی، مگر اس پر ایک پلیٹ، ایک گلاس، اور چاندی کا ایک جوڑا، بڑی احتیاط سے رکھا ہوا تھا۔
"تھوڑا اور گوشت لے لو، عمار؟" ثنا نے آواز دی۔ اس کی آواز میں وہی مخصوص ملائمت تھی، وہی حفاظت سے تراشا ہوا لہجہ جو ہر لفظ کو اس کے اصل معنوں سے کوسوں دور لے جاتا تھا۔
"نہیں، بس بس۔ بہت اچھا بنا ہے۔" میرا جواب بھی اسی تراشیدگی کا تھا۔ میں نے چھری کانٹے پلیٹ کے کنارے پر جوڑے سے سیدھ میں رکھ دیے۔ مکان کا سناٹا، جو صرف کھانے کے آلات کے ٹکرانے کی آواز سے ٹوٹتا تھا، دوبارہ چھا گیا۔
یہ ہمارا رات کا معمول تھا۔ سات بجے کا کھانا۔ تین پلیٹیں۔ تین افراد کے لیے دعوت۔ مگر صرف دو لوگ۔ تیسری کرسی پر بیٹھنے والا، ہمارا بیٹا علی، تین سال پہلے اس دنیا سے کوچ کر گیا تھا۔ پھر بھی، وہ ہمارے ہر کھانے، ہر بات چیت، ہر سانس کا حصہ تھا۔ نہ موجود، مگر ہر جگہ موجود۔
ثنا اٹھی، پلیٹیں اکٹھی کرنے لگی۔ میں نے مدد کے لیے ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ اس کی نظر میری کلائی پر پڑی۔ کچھ دیر پہلے نہاتے ہوئے میں نے غسل خانے کے شیشے کے دروازے سے ٹکرا کر اپنی کلائی پر ایک سرخ نشان بنا لیا تھا۔
"ارے، یہ کیا ہوا؟" اس نے پوچھا، آواز میں فوری تشویش۔ مگر اس تشویش کی تہہ میں، مجھے ایک چبھتا ہوا سوال محسوس ہوا: تم نے پھر لاپرواہی کی؟ تم ہمیشہ کیوں ایسے کرتے ہو؟
"کچھ نہیں، بس ایک چوٹ۔" میں نے جھٹکتے ہوئے کہا، آستین نیچے کھینچ لی۔
"دکھاؤ نہ، میں مرہم لگا دوں۔"
"نہیں، ضرورت نہیں۔"
ایک لمحے کی خاموشی چھا گئی۔ وہ لمحہ، جو ہمارے ہر مکالمے میں آتا تھا—اختلاف کا، احتیاط کا، خوف کا۔ اس نے آنکھیں جھکا لیں۔ میں جانتا تھا کہ اب وہ پوچھے گی: "آج... آج کیا سوچ رہے تھے؟" یہ اس کا کوڈ ورڈ تھا۔ "سوچنا" کا مطلب ہوتا تھا: کیا تم پھر اُس دن کو یاد کر رہے تھے؟ کیا تم پھر اپنے آپ کو، مجھے، یا اس خالی کرسی کو موردِ الزام ٹھہرا رہے تھے؟
"کچھ خاص نہیں۔ دفتر کے کام کے بارے میں۔" میں نے جلدی سے جواب دے دیا۔ سچ تھا بھی نہیں۔ میں اس روز کو یاد کر رہا تھا۔ تین سال پہلے کا وہ اتوار، جب میں علی کو پارک لے جانے کے بجائے اپنے دفتری ای میلز چیک کرنے میں مصروف تھا۔ علی نے کہا تھا، "ابّا، چلیں نا۔" اور میں نے کہا تھا، "بس ذرا رکو بیٹا، ابھی آتا ہوں۔" مگر میں نہیں گیا۔ ثنا گئی تھی۔ اور وہیں، پارک میں، علی کے ساتھ وہ حادثہ پیش آیا تھا۔ ایک بے لگام گاڑی...
ثنا نے سانس لیا، جیسے کچھ کہنے کو تھی، مگر پھر رک گئی۔ یہی ہماری زندگی تھی۔ ہر بات کا وزن تولنا، ہر لفظ کو پہلے اپنے ذہن میں کاٹ چھانٹ کر نکالنا، یہ جانچنا کہ کہیں وہ دوسرے کے زخم پر نمک نہ چھڑک دے، کہیں وہ خالی کرسی والے ہمارے تیسرے رکن کی غیر موجودگی کی طرف اشارہ نہ کر دے۔ یہ تعلق اعتماد کا نہیں، ایک خاموش معاہدے کا تھا۔ معاہدہ یہ تھا کہ ہم علی کی موت کا ذکر نہیں کریں گے، مگر ہر لمحہ اس کے بغیر گزرنے والی زندگی کا ماتم منائیں گے۔ ہم ایک دوسرے کو ٹوٹنے نہیں دیں گے، مگر خود بھی جوڑے نہیں رہیں گے۔ ہم محتاط رہیں گے۔ ہمیشہ محتاط۔
بدترین اور سب سے زیادہ تکلیف دہ تعلقات وہ ہوتے ہیں جن میں آپ کو ہر وقت محتاط رہنا پڑے۔
رات گئے، میں بستر پر لیٹا سقف کو تکتا رہا۔ ثنا میرے پہلو میں سانس لے رہی تھی، مگر میں جانتا تھا وہ جاگی ہوئی ہے۔ ہماری خواب گاہ بھی ایک خاموش جنگ کا میدان تھی۔ ہم ایک دوسرے کو چھوتے نہیں تھے، مگر ہماری سانسیں ایک دوسرے کی موجودگی کا حساب رکھتی تھیں۔
"ثنا؟" میں نے آہستہ سے پکارا۔
"ہاں؟" اس کی آواز فوراً آئی، چوکنی ہوئی۔
"کچھ نہیں... سو جاؤ۔"
اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔ میں نے اپنے ہونٹ دانتوں تلے دبا لیے۔ مجھے کہنا تھا، "مجھے معاف کر دو۔ اس دن پارک نہ جانے کی وجہ سے۔" مگر یہ جملہ میرے حلق میں پھنس کر رہ گیا۔ اگر میں یہ کہتا، تو وہ کہتی، "تمہاری کیا غلطی تھی؟ میں تھی جو اسے لے کے گئی تھی۔" اور پھر ہم ایک نئے دور میں داخل ہو جاتے—معافی مانگنے اور دینے کے دلدل میں، جہاں ہر لفظ ہمارے زخموں کو اور ہرا کرتا۔ احتیاط ہی بہتر تھی۔ خاموشی ہی محفوظ تھی۔
اگلے دن، دفتر سے واپسی پر، میں نے بازار سے گزرتے ہوئے ایک چھوٹا سا کھلونا گاڑی خریدی۔ وہی سرخ رنگ کی، جو علی کو پسند تھی۔ میں جانتا تھا یہ احمقانہ حرکت تھی۔ مگر میں اسے خرید کر لے آیا۔
گھر پہنچا تو ثنا باورچی خانے میں تھی۔ میں بغیر آواز دیے علی کے کمرے میں داخل ہو گیا، جو بالکل ویسا ہی تھا جیسا تین سال پہلے تھا۔ میں نے وہ گاڑی اس کے بستر کے سرہانے والے تختے پر رکھ دی، جہاں اس کی تصویر کھڑی تھی۔ تصویر میں وہ مسکراتا ہوا تھا۔
کھانے پر، ثنا خاموش تھی۔ اس کی آنکھیں سرخ تھیں۔ میں نے کچھ نہیں پوچھا۔ پھر اچانک، وہ بولی: "میں آج اس کا وہ نیلا سویٹر دیکھ رہی تھی۔ کپڑوں والی الماری میں۔"
میرا دل دھک سے رہ گیا۔ یہ تین سال میں پہلا موقع تھا جب اس نے علی کی کسی چیز کا اس طرح براہِ راست ذکر کیا تھا، بغیر کوڈ کے، بغیر احتیاط کے۔
"ہاں... وہ اسے بہت پسند تھا۔" میں نے آواز نکالی۔
"میں نے سوچا... شاید... ہمیں اسے کسی ضرورت مند کو دے دینا چاہیے۔"
یہ جملہ ہوا میں لٹک گیا۔ ہماری تمام تر محتاط دنیا ایک لمحے کے لیے تھرتی ہوئی محسوس ہوئی۔ کیا یہ اعتراف تھا کہ وہ اب نہیں ہے؟ کیا یہ زندگی آگے بڑھانے کا اشارہ تھا؟ مگر فوراً ہی، مجھے اس کی آواز میں وہی پرانی بے چینی محسوس ہوئی، جیسے وہ خود اپنے کہے ہوئے لفظوں سے ڈر گئی ہو۔
"نہیں۔" میری آواز خود میرے کانوں میں غیر متوقع طور پر سخت سنائی دی۔ "نہیں، نہیں دیں گے۔ وہیں رہنے دو۔"
ثنا نے مجھے دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک تھی—شاید مایوسی کی، شاید غصے کی۔ اس نے سر جھکا لیا۔ احتیاط کا پردہ دوبارہ گر گیا، اور اب وہ پہلے سے بھی زیادہ بھاری، زیادہ گہرا محسوس ہو رہا تھا۔
ایک ہفتے بعد کی بات ہے۔ رات کے کھانے کے بعد، میں نے علی کے کمرے میں جا کر دیکھا۔ وہ سرخ گاڑی وہیں تھی، مگر اس کی پوزیشن بدل گئی تھی۔ وہ تصویر کے بالکل سامنے، بڑی عقیدت سے رکھی گئی تھی۔ ثنا یہی کر سکتی تھی۔
مجھے ایک شدید قسم کا غصہ آیا۔ یہ کیا تھا؟ کیا وہ مجھے یہ بتا رہی تھی کہ اسے میری اس حرکت کا علم ہے؟ کیا وہ مجھے یاد دلا رہی تھی کہ ہم دونوں اسی خالی پن میں جکڑے ہوئے ہیں؟ میں نے جلدی سے وہ گاڑی اٹھائی اور اپنے کوٹ کی جیب میں ٹھونس لی۔
بات یہیں ختم ہو سکتی تھی۔ مگر پھر موڑ آیا۔
رات کو جب میں سویا، تو میرا خواب ٹوٹ گیا۔ نیند میں مجھے لگا کوئی رو رہا ہے۔ میں آنکھ کھول کر بیٹھ گیا۔ رونے کی آواز علی کے کمرے سے آ رہی تھی۔ میرا دل دھڑک اٹھا۔ میں بغیر سوچے اٹھا، کمرے کی طرف بڑھا۔ دروازہ تھوڑا سا کھلا تھا۔ اندر کی طرف دیکھا تو... وہاں ثنا تھی۔ وہ علی کے بستر پر بیٹھی تھی، اور اس کے ہاتھ میں وہی سرخ گاڑی تھی۔ وہ اسے ہلاتی ہوئی، بچوں جیسی آواز میں کہہ رہی تھی: "دیکھو علی، ابّا نے تمہارے لیے نئی گاڑی لائی ہے۔ چلو، ہم اسے دوڑاتے ہیں۔"
اور پھر وہ دھیرے سے خود ہی گاڑی کو بستر پر چلاتی ہوئی، بچوں کی سی آوازیں نکالنے لگی۔ اس کا چہرہ، جو دن میں ہمیشہ پتھرائی ہوئی مسکراہٹ سے ڈھکا رہتا، اب بچوں جیسی معصومیت اور اتھاہ دکھ سے بھرا ہوا تھا۔ وہ ایک ایسی ماں تھی جو اپنے بیٹے سے کھیل رہی تھی، جو وہاں موجود نہیں تھا۔
میں دروازے سے ٹکرا گیا۔
ثنا نے اچانک سر اٹھایا۔ ہماری نظریں ملیں۔ اس کے چہرے پر کوئی شرم نہیں تھی، نہ ہی حیرت۔ صرف ایک تھکا ہوا، خالی سا اطمینان تھا۔
"تم... ہمیشہ سے ایسا کرتی رہی ہو؟" میری آواز کانپ رہی تھی۔
"ہاں۔" اس کا جواب سیدھا اور بے لاگ تھا۔ "تمہیں کیسے لگا کہ میں زندہ ہوں؟"
اور پل بھر میں، سب کچھ بدل گیا۔ وہ احتیاط، وہ خاموش معاہدہ، وہ ہر لفظ کو تولنا... یہ سب صرف میری ضرورت تھی۔ میرا تحفظ۔ ثنا تو اس تاریکی میں کب کی اتر چکی تھی۔ وہ اپنے اندر کے اس کمرے میں، اپنے مردہ بیٹے کے ساتھ جیتی تھی۔ وہ محتاط نہیں تھی۔ وہ صرف مجھے محتاط رہنے دیتی تھی، تاکہ میں اس کے اس واحد سچے رشتے میں، اس کی پاگل پن کی اس دنیا میں، مداخلت نہ کر سکوں۔
میں نے ہمیشہ سمجھا تھا کہ ہم دونوں ایک ہی کشتی کے مسافر ہیں، ایک ہی دکھ میں ڈوبے ہوئے۔ مگر حقیقت یہ تھی کہ وہ تو کب کی ڈوب چکی تھی، اور میں کنارے پر کھڑا، احتیاط سے اپنے پاؤں گیلا کرنے سے ڈر رہا تھا۔ بدترین رشتہ وہ نہیں تھا جس میں درد تھا؛ بدترین رشتہ وہ تھا جس میں ایک شخص مر چکا ہو، اور دوسرا صرف یہ سمجھتا ہو کہ وہ زندہ ہے۔
میں نے دروازہ بند کر دیا، اور اپنے کمرے میں واپس آ گیا۔ صبح ہم دونوں اسی سفید میز پر بیٹھے تین پلیٹوں والا کھانا کھائیں گے۔ مگر اب میں جانتا تھا کہ تیسری پلیٹ صرف میرے لیے نہیں ہے۔ وہ اس خالی کرسی پر بیٹھنے والے کے لیے ہے، جس کے ساتھ صرف ثنا کا رشتہ قائم ہے۔ اور میں؟ میں صرف ایک محتاط مہمان ہوں، جو ہر وقت یہ سوچتا رہتا ہے کہ کہیں اس کا کوئی لفظ، کوئی حرکت، اس گھر کی اصلی اور خوفناک حقیقت کو بے نقاب نہ کر دے۔
-----------------------------
مشکل الفاظ کے معانی:
پرزے: حصے / حصے بخرے
رطوبت: نمی / ترشح / پانی کا اثر
یکسوئی: مکمل توجہ / ملحوظِ خاطر رکھنا
ملائمت: نرمی / لچک
تراشیدہ: خوبصورت بنایا ہوا / تراشا ہوا
کوچ کر جانا: انتقال کر جانا / رخصت ہونا
تشویش: فکر / پریشانی
موردِ الزام: قصور وار / الزام کا مستحق
ماتم: سوگ / غم منانا
سقف: چھت
چوکنی: ہوشیار / بیدار
تھرتی ہوئی: کانپتی ہوئی / ہلتی ہوئی
عقیدت: احترام / محبت و عقیدت
پتھرائی ہوئی: سخت یا بے حس ہو جانا
تاریکی: اندھیرا / غم کا گہراؤ
مصنف نوٹ: "تیسری پلیٹ" صرف ایک مردہ بچے کی یادگار نہیں، بلکہ ان رشتوں کا مرثیہ ہے جو دکھ کے بوجھ تلے دب کر اپنی اصل روح کھو دیتے ہیں۔ جب انسان ایک دوسرے سے سچائی بولنے سے ڈرنے لگے اور ہر لفظ کو احتیاط کے ترازو میں تولنے لگے، تو وہاں رشتہ قائم نہیں رہتا بلکہ صرف ایک ناٹک بن کر رہ جاتا ہے۔ اس افسانے کا اصل المیہ علی کی موت نہیں، بلکہ عمار اور ثنا کے درمیان کا وہ خلا ہے جہاں دونوں ایک دوسرے کو بچاتے بچاتے خود کو ایک دوسرے سے بالکل الگ کر بیٹھتے ہیں۔ سچا دکھ بانٹنے سے ہلکا ہوتا ہے، لیکن جب اسے خاموشی اور مصنوعی احتیاط کے نیچے دبایا جائے، تو وہ انسان کو اندر ہی اندر زنگ کی طرح چاٹ جاتا ہے۔

اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیجیے: